Ads (728x90)

شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پرملک بھرمیں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔راولپنڈی میں فوج سمیت ساڑھے چھ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ مختلف شہروں میں جلوس کے راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمروں سے جلوسوں کی نگرانی کی جائے گی۔ کراچی میں شہدائے کربلا کے چہلم کے 70 سے زائد جلوس اور 290 مجالس عزا منعقد ہوں گی۔ مجالس اورجلوس کی ٹیکنیکل سویپنگ اور اسکیننگ کے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ کراچی کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی پر 5 ہزارسے زائد پولیس اہلکار مامور کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے حساس مقامات پر انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کے دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے پولیس کی جانب سے بسوں کو زبردستی تحویل میں لینے کے خلاف احتجاجاً شہر بھر میں ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئٹہ میں پولیس، ایف سی اور بی آر پی کے5ہزار سے زائد اہلکار جبکہ پہاڑوں پر لیویز کا عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ فوج کو بھی شہر کے تین مقامات پر اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔راول پنڈی میں چہلم حضر ت امام حسین کے جلوس کے راستوں اور اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے کئی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے جبکہ فوج، رینجرز اور پولیس سمیت ساڑھے چھ ہزار سیکیورٹی اہلکارتعینات کردیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی پلان کے مطابق لاہور میں نماز فجرسے مرکزی جلوس کے راستوں پر 3 ہزار سے زائد اہلکارڈیوٹیاں دیں گے۔ملتان میں فوج کی 4 کمپنیاں اور سکھر میں پولیس، رینجرز، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سادہ لباس پولیس اہلکار جلوس کے مرکزی راستوں پرموجودرہیں گے۔پشاور میں جلوس کی گزر گاہوں پر پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات ہے۔ خیرپور میں شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اور رینجرز کی 25 چوکیاں قائم ہیں۔ بنوں میں آج صبح 6 بجے سے عائد کیا جانے والا کرفیو شام 5 بجے تک نافذ رہے گا۔کرم ایجنسی سے ملحقہ پاک افغان سرحد بند کردی گئی ہے جبکہ پاراچنار میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں