Ads (728x90)


حالیہ مہینوں میں برطانیہ کے بعض نرسنگ ہومز میں مریضوں کا دل بہلانے کے لیے ایک انوکھا طریقہ آزمایا جا رہا ہے۔
ان نرسنگ ہومز میں گدھے لائے جاتے ہیں، جس سے مریضوں کا دل بہلتا ہے اور ان کے اندر مثبت خیالات پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم گدھے کا نرسنگ ہوم میں داخلہ بعض اوقات صفائی ستھرائی کے مسائل پیدا کر دیتا ہے، خاص طور پر جب گدھے نے ماضیِ قریب ہی میں ڈٹ کر چارہ نوش کر رکھا ہو۔
چنانچہ حفظِ ماتقدم کے طور پر گدھے کے پیچھے ایک بالٹی رکھی جاتی ہے اور جوں جوں گدھا ہسپتال میں چہل قدمی جاری رکھتا ہے، اس بالٹی کو اس اس کے ساتھ ساتھ کھسکایا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس کے استعمال کی نوبت شاذ ہی آتی ہے۔
انھی میں سے ایک بیلی کیئر میں واقع کلیئر ویو نرسنگ ہوم ہے جہاں گدھے لائے جاتے ہیں۔ تھیراپسٹ ایلنا لائنس کہتی ہیں: ’مریض انھیں دیکھنا اور ان پر ہاتھ پھیرنا بہت پسند کرتے ہیں۔ ان سے علاج میں مدد ملتی ہے۔
’یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بچپن میں گدھے یا گھوڑے پالتے تھے، اس لیے ان کی بچپن کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’گدھوں کو دیکھ کر وہ ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں، بلکہ ان کے آنے سے پہلے ہی خاصا جوش و خروش پھیل جاتا ہے۔ ان کے جانے کے بعد انھیں ایک موضوعِ گفتگو ہاتھ آ جاتا ہے۔‘
جب نرسنگ ہوم کے سٹنگ روم میں گدھے پہنچتے ہیں تو مریضوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں اور لبوں پر مسکراہٹیں دوڑ جاتی ہیں۔
86 سالہ ویوین ہانا کہتے ہیں: ’یہ زبردست بات ہے کہ گدھوں کو یہاں لایا جا رہا ہے۔ انھیں دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے اور یہ ہمیشہ حیرانی کا باعث بنتے ہیں۔‘
اس نرسنگ ہوم میں گدھے ٹیمپل پیٹرک کے گدھا گھر سے لائے جاتے ہیں۔ یہاں 17 جانور موجود ہیں جو یا تو زخمی ہیں یا جنھیں آوارہ چھوڑ دیا گیا تھا۔
لیکن کیا انھیں نرسنگ ہوم لے جانا اخلاقی لحاظ سے درست ہے؟
گدھا گھر کی مینیجر ٹینا سمنگٹن کہتی ہیں: ’گدھے اسے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اگر وہ پسند نہ کرتے تو ہم انھیں کبھی بھی نہ لے کر جاتے۔
’وہ لوگوں سے میل جول پسند کرتے ہیں، انھیں زندگی کا سماجی پہلو پسند ہے، لیکن وہ بہت پرسکون بھی رہتے ہیں۔‘
گدھوں کی اس پناہ گاہ کو رضاکاروں کی مدد سے چلایا جا رہا ہے۔
گدھوں کو معذور بچوں اور بالغوں اور معمر افراد کی تھیراپی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں