Ads (728x90)

کراچی: سابق صدرآصف زرداری کے بیان اور پیپلزپارٹی کا نیا سیاسی محاذ کھولے جانے سے سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال غالب ہونے، عالمی سطح پر مندی کی وجہ سے مقامی مارکیٹوں سے بھی غیرملکیوں کے سرمائے کے انخلا کے خدشات اور گیس ٹیرف میں اضافے سے بعض فرٹیلائزر کمپنیوں کی پیداواری لاگت بڑھنے جیسے عوامل منگل کوکراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پر اثرانداز رہے اور مارکیٹ اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے گرداب میں چلی گئی جس سے انڈیکس کی3حدیں بیک وقت گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے53 ارب21 کروڑ91 لاکھ18 ہزار416 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ افراط زرکی شرح 13 سال کی کم ترین سطح پر آنے سے اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سودمزید کم ہوسکتی ہے لیکن اس سے بینکنگ سیکٹر کا پرافٹ مزید کم ہونے کا خدشہ ہے، یہی وجہ ہے کہ منگل کو بینکنگ اور فرٹیلائزر سیکٹر میں فروخت کا دباؤ زیادہ رہا، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر187.43 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فوری منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے مذکورہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ مندی میں چلی گئی۔

کاروبارکے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس270.17 پوائنٹس کی کمی سے34456.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس169.74 پوائنٹس کی کمی سے21048.67 اور کے ایم آئی30 انڈیکس433.90 پوائنٹس کی کمی سے57401.12 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت0.13 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر35 کروڑ35 لاکھ37 ہزار810 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار401 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں112 کے بھاؤ میں اضافہ، 270 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ایک تبصرہ شائع کریں