Ads (728x90)


مکہ المکرمہ: منی میں رمی جمرات کے دوران بھگڈر مچنے سے شہید ہونے والے افراد کی تعداد 453 ہو گئی ہے جب کہ 719 سے زائد افراد حادثے میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مکہ المکرمہ سے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستان علما کونسل کے چیرمین مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے لاکھوں حاجی بڑے شیطان جمرات العقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے کہ بھگڈر مچنے سے متعدد حجاج کرام شہید جب کہ سیکڑوں زخمی ہو گئے۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق رمی جمرات کے دوران بھگڈر مچنے سے شہید ہونے والے افراد کی تعداد 453 جب کہ زخمیوں کی تعداد 719 ہو گئی ہے۔ حادثہ اسٹریٹ نمبر 204 میں مکتب نمبر 93 کے قریب پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر اور مصری شہری موجود تھے۔ سعودی سول ڈیفنس کے حکام کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں کو منیٰ کے قریبی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

سعودی حکومت اور رضا کاروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں تا کہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے موقع پر پہنچ گئے ہیں جب کہ وزیراعظم پاکستان نے افسوسناک واقعہ پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ حج پر موجود پاکستانیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے سعودی عرب میں پاکستانی سفارکار منظور الحق سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے افسوس کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستانی سفارتکار کو ہدایت کی کہ سعودی عرب میں موجود تمام خدام اور رضاکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لیں۔ پاکستانی حج مشن ٹیم بھی ملکی حاجیوں کی تفصیلات جمع کرنے کے لئے منی پہنچ گئی ہے۔

پاکستانی سفارتخانے نے ملکی حاجیوں کی تفصیلات جاننے کے لئے 2 ہیلپ نائن نمبرز 00966125277537 اور 00966125458000 جاری کر دیئے ہیں جس پر اپنے پیاروں سے متعلق تفصیلات معلوم کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب منیٰ حادثے میں 2 پاکستانیوں خلیل اور حاجی عارف کے شہید ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل مسجد الحرام میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث کرین گرنے سے 100 سے زائد عازمین شہید جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ 2006 میں بھی منیٰ کے قریب بھگڈر مچنے سے 346 جب کہ 2004 میں رمی جمرات کے دوران 251 حجاج نے جام شہادت نوش کیا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں