Ads (728x90)


کہا جاتا ہے کہ ایک ساتھ زیادہ کیلے کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ کہا تو یہاں تک گیا ہے کہ ایک وقت میں چھ سے زیادہ کیلے کھانے سے جان بھی جا سکتی ہے۔

کیا یہ سچ ہو سکتا ہے؟

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا پھل ہے جس میں ویٹامنز اور منرلز (معدنیات) ہیں۔ تو اگر یہ پھل ہمارے لیے اچھا ہے تو کیا اس سے جان جا سکتی ہے؟

اس خیال کو ایک مشہور شخص کارل پلنگٹن نے پھیلایا ہے۔ انھوں نے ایک جگہ کہا ’ہم اس سے پہلے کیلوں کی بات کر رہے تھے ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چھ سے زیادہ کیلے کھائیں جائیں تو آپ مر سکتے ہیں۔‘

’یہ حقیقت ہے۔ چھ کیلے کھانے کے باعث پوٹاشیم کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جائے گی ۔۔۔ میں نے ایک برتن میں کیلے دیکھے۔ اس میں چھ کیلے تھے۔ معلوم ہے کہ چھ کیلے کیوں تھے؟ ساتواں آپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

پوٹاشیم ہمارے لیے کتنا خطرناک ہے؟


لندن میں واقع سینٹ جارج ہسپتال کی کیتھرین کولنز کا کہنا ہے کہ پوٹاشیم ہمارے لیے بے حد اہم ہے اور یہ ’ہمارے جسم کے ایک ایک خلیے میں پایا جاتا ہے۔‘

’اس سے ہماری دل کی دھڑکن ٹھیک رہتی ہے، ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں اہم کردار ہے۔ تاہم اگر اس کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے تو دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے، پیٹ میں درد، متلی اور پیٹ خراب ہو جائے گا۔‘


’ایک صحت مند شخص کو شاید ہر روز 400 کیلے کھانے پڑیں گے کہ اس کے جسم میں پوٹاشیم کا لیول اتنا زیادہ ہو جائے کہ وہ جان لیوا ثابت ہو ۔۔۔ کیلے صحت کے لیے خطرناک نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ ہی سے مفید رہے ہیں۔‘تاہم کولنز کا کہنا ہے کہ ایک صحت مند شخص کے لیے کیلے نقصان دہ نہیں ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ایک جوان شخص کو ایک دن میں 3500 ملی گرام پوٹاشیم لینی چاہیے۔ ایک 125 گرام وزن کے کیلے میں 450 ملی گرام پوٹاشیم ہوتی ہے۔ یعنی ایک جوان شخص دن میں کم از کم ساڑھے سات کیلے کھا سکتا ہے۔

تاہم کچھ لوگوں کو اور خاص طور پر گردے کے مرض میں مبتلا افراد کو ایسی خوراک سے دور رہنے کا کہا جاتا ہے جس میں پوٹاشیم کی بڑی مقدار ہو۔

کولنز کا کہنا ہے کہ ’جن افراد کے گردے کام نہیں کرتے ان کے لیے پوٹاشیم کی اتنی زیادہ مقدار اچھی نہیں ہے۔‘

ایک تبصرہ شائع کریں