Ads (728x90)

آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے قریب سے ملنے والی ایک مینڈھے کی اون اتارنے کے لیے اون تراشی کے قومی چیمپیئن کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔

جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ میرینو بھیڑ کی زندگی کو اس کے جسم کے حد سے زیادہ اُونی ہونے کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قومی چیمپییئن ایئن ایلکنز بھیڑ کے جسم پر موجود کئی کلو وزنی اُون تراشیں گے جو کہ کئی برس کی مدت میں جمع ہو چکی ہے۔

خیال رہے کہ اگر بھیڑ یا مینڈھے کے بالوں کی متواتر تراش خراش نہ کی جائے تو اس کی صحت کو خطرناک قسم کے مسائل کا سامنا ہو جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جانوروں کے حقوق کے لیے قائم ادارے آر ایس پی سی اے کی سربراہ وین ڈینگ کہتی ہیں کہ اس مینڈھے کی جسامت ایک عام مینڈھے سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی سال تنہائی میں گزارنے کے بعد اب یہ مینڈھا انسانوں درمیان آ کر دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

آر ایس پی سی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انھوں نے خود مینڈھے کی اون تراشنے کی کوشش کی تاہم بعد میں انھوں نے کسی ماہر اون تراش کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایلکن چار بار ملک میں بھیڑوں کی اون کی تراش کا مقابلہ جیتنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مینڈھے کے جسم پر موجود اُون تراشنا ان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

سنہ 2004 میں بھی نیوزی لینڈ میں شرک نامی بھیڑ چھ سال کی گمشدگی کے بعد ملی تھی۔ شرک کی تراش خراش کو ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا تھا جس کے بعد معلوم ہوا تھا کہ ان کا 27 کلو وزن کم ہوگیا تھا۔ اس بھیڑ کا انتقال سنہ 2011 میں ہوا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں