Ads (728x90)

ہوا سے ڈیزل کی تیاری کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ معلوم ہوتی ہے لیکن جرمنی اور کینیڈا میں کئی چھوٹی کمپنیاں یہ کام کر رہی ہیں۔

یہ کمپنیاں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کر کے اسے فروخت کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔

جرمن کمپنی سن فائر نے رواں برس اپریل میں اس ’ای ڈیزل‘ کی پہلی کھیپ تیار کی ہے جبکہ کینیڈا کی کمپنی کاربن انجینیئرنگ نے ایسا کارخانہ لگایا ہے جو روزانہ فضا سے ایک سے دو ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کھینچ کر اسے 500 لیٹر ڈیزل میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اس عمل کے لیے بجلی درکار ہے لیکن اگر یہ کمپنیاں دوبارہ قابلِ استعمال بجلی کا استعمال کریں تو وہ ایسا ڈیزل بنا سکتی ہیں جو ’ کاربن نیوٹرل‘ ہو گا۔

دیگر الفاظ میں اس ڈیزل کے استعمال سے آپ ماحول میں صرف وہی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی خارج کریں گے جو اس ماحول سے ڈیزل کی تیاری کے لیے حاصل کی گئی تھی۔

اس کے برعکس فوسل فیول جلانے سے آپ ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

ماحول کو لاحق خطرات کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کا معاملہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

2013 - 2012 میں ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 400 پارٹس فی دس لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ یہی نہیں بلکہ امریکی ماہرین نے جولائی 2014 سے جون 2015 کا درمیانی عرصہ زمین پر گرم ترین 12 ماہ قرار دیے ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ایندھن کی تیاری کی کیمیا مشکل نہیں۔ پانی کو الیکٹرولسس کے عمل سے گزار کر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو الگ کریں اور ہائیڈروجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں ملا کر کاربن مونو آکسائیڈ اور پانی بنائیں اور پھر ہائیڈرون کاربن کی زنجیر کی تیاری کے لیے مزید ہائیڈروجن شامل کریں۔

اس آخری عمل کو فشر ٹروپش عمل کہا جاتا ہے اور یہ 1920 کی دہائی سے زیرِ استعمال ہے، لیکن یہ ہوا سے براہِ راست کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی نئی چیز ہے جو اب اتنی ارزاں بھی ہے کہ اس کا عام استعمال ممکن ہو سکے۔

کاربن انجینیئرنگ کے چیف ایگزیکیٹو ایڈریئن کورلس کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ بہت زیادہ درجۂ حرارت والی بھٹیوں کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’انھیں معیاری بنانے کے لیے اب بھی ایک ماہ کی شدید محنت درکار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کا سب سے بڑا کارنامہ ہوا سے حاصل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کیلشیئم کاربونیٹ کے ٹھوس گولوں میں جمع کرنا ہے جنھیں باآسانی دھویا اور خشک کیا جا سکتا ہے۔

پھر ان گولوں کو آٹھ سے نو سو سنٹی گریڈ درجۂ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے جہاں وہ خالص کاربن ڈائی آکسائیڈ دھویں کی شکل میں خارج کرتے ہیں۔

ایندھن کے علاوہ ہوا سے حاصل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ دیگر صنعتوں کو بھی فروخت کی جا سکتی ہے۔

سوئس کمپنی کلائم ورکس اپنے کارخانے میں ہوا سے حاصل کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو قریبی گرین ہاؤس کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ کلائم ورکس کے طویل المدتی منصوبوں میں اس گیس کی افریقہ، جاپان اور دیگر دوردراز جزائر پر مشروبات بنانے والی کمپنیوں کو فروخت بھی شامل ہے۔

کمپنی کے چیف آپریٹنگ افسر ڈومینیک کروننبرگ کا کہنا ہے کہ اس وقت ان علاقوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مائع شکل میں لانے اور استعمال کے اخراجات عام جگہوں سے دس گنا زیادہ ہیں۔

فوسل فیول استعمال کرنے والے کارخانوں کی چمنیوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا حصول ہوا سے اس گیس کے حصول سے کہیں آسان ہے کیونکہ ان گیس اور کوئلے سے چلنے والے کارخانوں سے خارج ہونے والے دھویں میں بالترتیب تین اور 15 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتی ہے۔

ہوا میں اس کے برعکس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار دس لاکھ میں سے چار سو پارٹس کے برابر ہے۔

تاہم ڈومینیک کروننبرگ کے مطابق ’ہمیں کسی بوائلر یا کوئلہ جلانے والے بھٹی کی چمنی سے حاصل شدہ گیسوں کو صاف نہیں کرنا پڑتا۔ ان میں بہت زیادہ گندھک اور دیگر مالیکیول ہوتے ہیں جنھیں صاف کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘

ہوا سے گیس کے حصول کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طریقے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرنا آسان ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہوا سے تیار کیا گیا ڈیزل قیمت کے معاملے میں دیگر فوسل ایندھنوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

سن فائر کے اندازوں کے مطابق ای ڈیزل کی فی لیٹر قیمت ایک سے ڈیڑھ یورو ہو سکتی ہے جو اس وقت برطانیہ میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت سے کم ہی ہے۔

تاہم اس معاملے میں بہت کچھ حکومتی پالیسی پر منحصر ہے۔ ایندھن کی اصل قیمت پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت سے 30 فیصد تک کم ہو سکتی ہے اور باقی رقم فیول ڈیوٹی، ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور پمپ مالک کے منافع کی مد میں جاتی ہے۔

ڈومینیک کروننبرگ پرامید ہیں کہ وہ جو ماحول دوست ایندھن تیار کریں گے انھیں ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ ملے گی۔ برطانیہ اور امریکہ میں حکومتیں پہلے ہی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے ماحول دوست ایندھن کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

تاہم دراصل یہ بجلی کے اخراجات ہیں جو ای ڈیزل کی تجارتی بنیادوں پر فروخت کو ممکن یا ناممکن بنا سکتے ہیں کیونکہ اس عمل میں بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔

امپیریل کالج لندن میں صاف توانائی پر کام کرنے والے ڈاکٹر پال فینل کا کہنا ہے کہ ’آپ بجلی لے کر اسے اپنی گاڑی کے لیے ایندھن میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کی افادیت 13 فیصد ہوتی ہے اور اگر آپ اس کا موازانہ بجلی کی مدد سے کسی الیکٹرک کار کی چارجنگ سے کریں تو وہاں افادتر 80 فیصد کے لگ بھگ ہے۔‘

تاہم کاربن انجینیئرنگ کے چیف ایگزیکیٹو ایڈریئن کورلس کے مطابق ’گذشتہ دو سے تین برس میں دوبارہ قابلِ استعمال بجلی خصوصاً شمسی توانائی کی لاگت میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔‘

ای ڈیزل کے استعمال کے حق میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا میں کروڑوں گاڑیاں ڈیزل استعمال کر رہی ہیں اور ان میں ای ڈیزل کا استعمال ماحول کو صاف کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

کلائم ورکس اور کاربن انجینیئرنگ کے مطابق ان کی ٹیکنالوجی بڑے منصوبوں کے لیے بھی قابلِ عمل ہے۔ امریکی بحریہ کی تحقیقاتی لیبارٹری پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اپنے بحری جہازوں میں ای ڈیزل کے استعمال میں دلچسپی رکھتی ہے۔

اس لیے کوئی بعید نہیں کہ آپ کی کار اندازوں سے کہیں پہلے ایسے ایندھن پر چل رہی ہو جو ہوا سے تیار کیا گیا ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں