Ads (728x90)

قبرستان ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جو خاموشی کے ساتھ انسان کو دنیا کی بے ثباتی کو عیاں کرتی ہے، دنیا میں کئی قبرستان اِس لیے بھی شہرت رکھتے ہیں کہ وہاں ایسی ہستیاں مدفون ہوتی ہیں کہ لوگ وہاں جانے کو سعادت خیال کرتے ہیں لیکن یورپ میں چند قیرستان ایسے بھی ہیں جو دنیا بھر کے سیاح جانا پسند کرتے ہیں۔ 

ہیمبرگ کا’’اولزڈورف‘‘


جرمنی کے شہر اولزڈورف میں دنیا کا سب سے بڑا گارڈن قبرستان ہے جو قبرستان سے زیادہ ایسا باغ دکھائی دیتا ہے جہاں انواع و اقسام کے پودے ہوں باغ زیادہ دکھائی دیتا ہے، 391 ہیکٹرز پر پھیلا یہ قبرستان دنیا کا چوتھا بڑا شہر خاموشاں ہے۔ 1877 سے اب تک اِس میں 14 لاکھ سے زائد انسان دفن کیے جاچکے ہیں۔ اِس میں لہروں کی فریکوئنسی تلاش کرنے والا عظیم سائنسدان ہائنرِش ہرٹز بھی دفن ہے۔ اولزڈورف میں بنائی گئی سڑک کی لمبائی 17 کلومیٹر ہے اور دن بھر میں مختلف اوقات پر خصوصی بس سروس بھی میسر ہے۔

پیرس کا ’’پیئرلاشیز‘‘


فرانس کے دارالحکومت پیرس کو خوشبوؤں کا شہر کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں صرف یہاں کا ایفل ٹاور ہی مقبول نہیں بلکہ اس کا قبرستان بھی خاصا مشہور ہے، پیئرلاشیزنامی یہ قبرستان فرانس کا سب سے بڑا قبرستان ہے جسے 19ویں صدی میں کھولا گیا تھا اور یہاں کئی معروف فرانسیسی ابدی نیند سورہے ہیں، چوڑے راستوں اور پارک جیسے ماحول کی وجہ سے پیئرلاشیز سایحوں میں بھی خاصا مقبول ہے اور ہر سال یہاں کم از کم 20 لاکھ سیاح آتے ہیں۔


ویانا کا ’’زینٹرال فریڈ ہاف‘‘


آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کا قبرستان 1874 میں تدفین کے لیے کھولا گیا تھا۔ ڈھائی کلومیٹر میں پھیلے اِس قبرستان میں سوا تین لاکھ سے زائد قبریں ہیں۔ یہ یورپ کے بڑے قبرستانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اِسی قبرستان میں جرمن موسیقار لُڈوِگ فان بیتھوون دفن ہیں۔

برطانیہ کا ’’وِٹبائی کاؤنٹی قبرستان‘‘


انگلینڈ کے علاقے وِٹبائی کاؤنٹی کا قبرستان ڈریکولا کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اِسی باعث ہر برس ہزاروں افراد وِٹبائی قبرستان صرف ڈریکولا کی وجہ سے جاتے ہیں۔ اِس قبرستان کا محلِ وقوع بہت ہی حسین ہے اور یہ ایک پہاڑی چٹان پر ہے۔ اِسی قبرستان میں گیارہویں صدی میں تعمیر کیا گیا سینٹ میریز چرچ بھی موجود ہے۔ اِس گرجا گھر کی بنیادوں کو نقصان پہنچنے کے خطرے کی وجہ سے گزشتہ ایک صدی سے اِس قبرستان میں کوئی نئی قبر نہیں کھودی گئی ہے۔


پراگ کا “دی جیوش گارڈن”


چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ کے وسط میں واقع 700 برس پرانا قبرستان صرف یہودیوں کے لئے مختص ہے۔ ایک ہیکٹر میں پھیلے اس قبرستان میں کئی قبریں پندرہویں صدی کی ہیں۔ جنہیں دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح یہاں پہنچتے ہیں۔


وینس کا ’’آئسولا ڈی سان مشیل‘‘


فرانسیسی بادشاہ نپولین بوناپارٹ نے 1804 میں وینس میں ایک قبرستان بسانے کا حکم دیا تھا۔ساڑھے 17 ہیکٹر پر پھیلا یہ قبرستان سان کرسٹوفورو ڈیلا پیس میں واقع ہے۔ جب یہ جزیرہ قبرستان کے لیے چھوٹا پڑ گیا تو اِس کو قریبی جزیرے سان مشیل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ دونوں جزیروں کے درمیان راستے کو مٹی ڈال کر بھر دیا گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں