Ads (728x90)


مصر کی ایک لڑکی کی حمایت میں ہزاروں لوگ آئے ہیں کیونکہ اچھے نمبروں سے پاس ہونے والی اس لڑکی کو نہ صرف فیل کردیا گیا ہے بلکہ اسے ممکنہ طور پر سب سے کم نمبر دیے گئے ہیں۔

مریم ملک کو اپنے امتحان کے نتائج سے اچھی امیدیں وابستہ تھیں اور انھیں اس سے قبل تقریباً بہترین نمبر ملے تھے اور اسی سبب وہ مصر کی بہترین طالبہ میں شامل تھیں۔

لیکن جب فائنل امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوا تو مریم نے سب سے پہلے اپنا نام سرفہرست طلبہ میں تلاش کیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس کا نام وہاں نہیں تھا اس کے بعد بھی وہ پراعتماد تھی لیکن جب اس نے اپنا ریزلٹ دیکھا تو وہ بے ہوش ہو گئی۔

مریم ملک نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا، میں کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ مجھے صفر کیسے مل سکتا ہے؟‘

مریم کو نہ صرف ایک مضمون میں 100 نمبر میں سے صفر نمبر ملے بلکہ تمام سات پرچوں میں یہی نتیجہ تھا۔ یہ نتیجہ اس قدر بے تکا تھا کہ ان کے گھر والوں کو فوراً ہی کسی بے ایمانی کا شبہہ ہوا۔

پہلے تو یہ شبہہ کیا گیا کہ انھیں اس لیے فیل کر دیا گيا ہے کہ وہ مصر کی اقلیتی قبطی مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن اسے فوراً ہی مسترد کر دیا گیا اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کا شکار ہوئی ہیں۔

مریم کے بھائی نے کہا کہ ’یا تو سکول نے یا پھر امتحان بورڈ نے اس کے پرچے کو ایسے طلبہ کے پرچے سے بدل دیا جو اچھا نہیں تھا۔‘

خیال رہے کہ مصر کے نظام تعلیم میں رشوت اور بدعنوانی کی کہانیاں نئی نہیں ہیں۔ لیکن مریم کا مسئلہ عجیب تھا جس نے انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔

ہزاروں مصری نے ’میں مریم پر یقین کرتا ہوں‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ان کی حمایت کی جبکہ فیس بک پر ان کی حمایت میں جو صفحہ تیار کیا گیا اس پر 30 ہزار سے زیادہ لائیکس آ چکی ہیں۔

ایک مصری خاتون نے لکھا: ’انھوں نے نہ صرف اس کے نمبر چرائے بلکہ اس کا مستقل اور خواب بھی چرا لیے۔ تصور کریں تمام سات مضامین میں صفر۔۔۔ یہ تو حد ہو گئی۔‘


ایک تبصرہ شائع کریں