Ads (728x90)


جرمنی میں اتوار کو بھی جب ہزاروں مہاجرین اپنے بچوں کو گلے سے لگائے ہوئے اور اپنے مختصر سامان پر مشتمل چھوٹی چھوٹی پوٹلیاں تھامے ٹرینوں سے اترے تو اُن کے خیر خواہوں نے اُن کا والہانہ استقبال کیا۔

ہفتہ پانچ ستمبر کو مجموعی طور پر آٹھ ہزار مہاجرین جرمنی پہنچ گئے تھے۔ اتوار چھ ستمبر کو دوپہر تک مزید تین ہزار مہاجرین نے جرمن سرزمین پر قدم رکھے جبکہ اتوار کو ہی رات گئے تک مزید دو ہزار مہاجرین کی آمد متوقع ہے۔

اتوار کو جب ہنگری سے آنے والے مہاجرین ریل گاڑیوں سے باہر نکلے تو بڑے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ مہاجرین کا استقبال کرنے والوں نے ہاتھوں میں رنگا رنگ غبارے اٹھا رکھے تھے، یہ لوگ مہاجرین کی تصاویر اُتار رہے تھے اور اُنہیں پانی، خوراک اور کپڑے پیش کر رہے تھے۔

شام کے تباہ شُدہ شہر القصیر سے آنے والے ایک بتیس سالہ نوجوان محمد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’یہ لوگ ہمارے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کر رہے ہیں، یہ لوگ ہمارے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، ویسا نہیں، جیسا شام میں ہو رہا ہے۔‘‘

لوگ جیسے ہی ریل گاڑیوں سے اترتے ہیں، بسیں اُنہیں ابتدائی رہائش گاہوں میں پہنچانے کے لیے پہلے سے کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ عارضی رہائش گاہیں ملک بھر کی سرکاری عمارات، ہوٹلوں اور فوجی بیرکوں میں قائم کی گئی ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کو درپیش مہاجرین کے اس سب سے بڑے بحران نے مشرقی اور مغربی یورپ کے درمیان خلیج بھی نمایاں کر دی ہے۔ مشرقی ملکوں کا سرخیل ہنگری ہے، جس نے پہلے تو مہاجرین کو روکے رکھا اور پھر اُنہیں آگے آسٹریا اور جرمنی کی طرف روانہ کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ بوڈاپیسٹ حکومت یورپی یونین کی ’ناکام امیگیریشن پالیسی‘ کو مسترد کرتی ہے۔

ہنگری کے قدامت پسند وزیر اعظم وکٹر اوربان نے مزید مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے سربیا کے ساتھ ملنے والی سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ اوربان کا یہ بیان بھی ہدفِ تنقید بن رہا ہے، جس میں اُنہوں نے کہا کہ یورپ مسیحی شناخت رکھتا ہے جبکہ آنے والے مہاجرین میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں۔

اوربان کے برعکس پاپائے روم فرانسس نے اپنے تازہ پیغام میں ہر کیتھولک خانقاہ اور کسی پادری کے زیر انتظام ہر مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ کم از کم ایک کنبے کو اپنے ہاں پناہ دے۔ روم کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ کا کہنا تھا:’’ہزارہا افراد جنگ اور بھوک سے متاثر ہو کر پناہ کی تلاش میں ہیں اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کی امید کر رہے ہیں، ہمیں پسماندہ اور محروم لوگوں کا سہارا بننا چاہیے اور اُنہیں ٹھوس امید دلانی چاہیے۔‘‘ پوپ نے کہا کہ ویٹی کن میں پادریوں کے زیر انتظام دو مراکز ’آنے والے دنوں میں‘ دو کنبوں کو پناہ دیں گے اور یورپ بھر میں واقع ایسے پچاس ہزار سے زیادہ کیتھولک مراکز سے بھی یہی توقع کی جا رہی ہے۔

جنگ سے تباہ حال شام میں بڑے پیمانے پر ابتلا اور مصائب کے پیشِ نظر جرمنی نے اپنی معمول کے ضوابط کو ترک کرتے ہوئے مہاجرین کی بہت بڑی تعداد کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال یورپی یونین کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں جرمنی کہیں زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے والا ہے۔ جرمنی میں رواں سال مجموعی طور پر آٹھ لاکھ مہاجرین کی آمد متوقع ہے۔ یہ تعداد گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہو گی۔ ان مہاجرین کو ٹھہرانے پر دَس ارب یورو کی لاگت آئے گی۔

دریں اثناء آسٹریا کے چانسلر ویرنر فیمان نے خبردار کیا ہے کہ اُن کا ملک ہنگری سے آنے والے ہزارہا مہاجرین کو پناہ تو دے رہا ہے لیکن یہ کہ یہ ایک ’عارضی‘ اقدام ہے اور مہاجرین کی اس ریکارڈ تعداد سے نمٹنے کے لیے اٹھائیس رکنی یورپی یونین کو اجتماعی طور پر کوئی لائحہٴ عمل اپنانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا کوئی مشترکہ یورپی حل نکالنا ہو گا اور چَودہ ستمبر کو یورپی یونین کے وُزرائے داخلہ کے مجوزہ اجلاس کے فوراً بعد یونین کی سربراہ کانفرنس بلائی جانی چاہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں