Ads (728x90)


’کیئلے‘ کی بندرگاہ پر تارکینِ وطن کے ایک کیمپ کی زبوں حالی دیکھ کر عطیات جمع کرنے والے جوڑے کا کہنا ہے کہ لوگوں کے ردِ عمل پر وہ جذبات سے مغلوب ہو گئے ہیں۔

جیز او ہارا نے اپنے دوست ڈین ٹیوما کے ساتھ سفری بلاگ کے لیے دستاویزی فلم بنانے کے ارادے سے تارکینِ وطن کے کیمپ کا دورہ کیا تھا۔

لیکن انھوں نے وہاں حالات دیکھ کر فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی جسے چند دنوں کے اندر 60 ہزار بار شیئر کیا گیا۔

انھوں نے اب ایک لاکھ 32 ہزار پاؤنڈ جمع کر لیے ہیں اور تارکینِ وطن کے لیے اتنا سامان جمع ہوا ہے جس سے کئی گاڑیاں بھری جا سکتی ہیں۔

برطانیہ کے مشرقی علاقے کینٹ میں ٹنبرج ویلز سے تعلق رکھنے والی اوہارا کہتی ہیں ’بنیادی طور پر فیس بک پر پوسٹ میں میں نے وہ لکھا جو دیکھا اور وہ میرے جذبات کا اظہار تھا۔ میں اس وقت وہاں حالات دیکھ کر بہت جذباتی تھی۔ ہمیں ٹنبرج ویلز سے ڈوور کی بندرگاہ تک جانے میں گاڑی پر ایک گھنٹہ لگا لیکن وہاں کی دنیا کینٹ سے بہت ہی مختلف تھی۔‘

اس جوڑے کو امید تھی کہ وہ اپنی دستاویزی فلم بنانے کے لیے تھوڑی سے رقم اکٹھی کر سکے گا۔ لیکن جوں جوں عطیات میں ہوتا گیا انھیں’جسٹ گِیونگ‘ صفحہ بنانا پڑا۔

انھوں نے کپڑے، خیمے اور کیمپوں میں رہنے کے لیے ضروری سامان جمع کرنے کے لیے ’کل ایڈ‘ نامی تنظیم بھی قائم کی ہے۔

’کیئلے‘ میں تین ہزار کے قریب تارکینِ وطن شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے یورپ آنے والے کی لہر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔

ان کیمپوں میں رہنے والے روزانہ یورو ٹنل یا برطانیہ جانے والی کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم اگست کے مہینے میں یورو ٹنل ٹرمینل پر اضافی سکیورٹی اقدامات کیے جانے کے بعد ان کوششوں میں کمی آئی ہے۔

جوڑے نے جو تنظیم بنائی ہے اس کے ایک رضا کار سیوب ہن وال کہتے ہیں ’ہم ملک بھرسے ۔۔۔اسکاٹ لینڈ سے ویلز تک اور ویلز سے کارنوال تک۔۔۔ عطیات جمع کر رہے ہیں۔ لوگوں نے جس طرح مدد کی ہے اس کا جواب نہیں۔ ہم جذبات سے مغلوب ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ریڈنگ اور لیڈز سے ہمیں تہواروں اور تقریبات میں استعمال ہونے والے سینکڑوں خیمے ملے ہیں اور لوگ ہمیں اپنے دوستوں، خاندان کے افراد اور دفتر میں کام کرنے والوں سے چیزیں لے کر بھیجتے ہیں۔‘

ایک تبصرہ شائع کریں