Ads (728x90)

کراچی: فریٹ فارورڈرزاورایئرکارگوایجنٹس نے منگل سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے، یکم ستمبر کوملکی تاریخ میں پہلی بارسی پورٹ، ایئرپورٹ اور ڈرائی پورٹس پرنہ صرف برآمدی سرگرمیاں معطل رہیں بلکہ درآمد ہونے والے کنسائمنٹس کی ہینڈلنگ بھی معطل رہی، ہڑتال کے نتیجے میں صرف برآمدات کی مد میں13 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔

گزشتہ روزکراچی پریس کلب میں ایئرکارگوایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین محمد فرخ اقبال، پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم سعید خان، ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ندیم شریف اور پاکستان سیکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میجر(ر) منیر، کراچی چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر مفسر ملک ودیگر ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیاکہ ہڑتال 8 فیصد ٹرن اوورٹیکس کے خاتمے تک جاری رہے گی، گزشتہ 2 ماہ سے چیئرمین ایف بی آر ودیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ اس سلسلے میں مذاکرات کے کئی دورہوئے۔

جس میں چیئرمین ایف بی آرطارق باجوہ نے کھل کر اپنی غلطی کو تسلیم کیا تھا کہ مذکورہ ٹرن اوورٹیکس غیرحقیقت پسندانہ ہے جسے جلد ہی واپس لے لیا جائے گا لیکن باربارکی یقین دہانیوں کے باوجود حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جس کے بعد فریٹ فارورڈرز، ایئرکارگو ایجنٹس نے مجبوری میں ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فریٹ فارورڈرزاور ایئرکارگوایجنٹس کا ٹرن اوور کا حجم اگرچہ بڑا ہوتا ہے لیکن گراس مارجن صرف2 فیصد ہوتا ہے جس پر یہ شعبہ کس طرح حکومت کو8 فیصد ٹیکس اداکرسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے مذکورہ ٹیکس اسمبلی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد عائد کیا ہے جسے اب وہ 120 دن میں اسمبلی میں دوبارہ بل پیش کرکے واپس لے سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ 100 فیصد دستاویزی ہے جو تمام رائج ٹیکسوں کی باقاعدگی کے ساتھ ادائیگیاں کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ٹیکس کے خلاف عدالت میں 2 پیٹشنز دائر کی گئی ہیں جبکہ سال2009 سے اس ٹیکس کے نفاذ کے خلاف بھی عدالت میں ایک علیحدہ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ فرخ اقبال نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منگل کوپاکستان سے آپریٹ کرنے والی تمام ایئرلائنزکارگو حاصل کیے بغیر روانہ ہوئی ہیں جو حکومت کے لیے لمحہ فکر ہونا چاہیے۔

عاصم سعید خان نے بتایا کہ فریٹ فارورڈرز یومیہ 500 کنٹینرز کی ہینڈلنگ کرتے ہیں اور منگل کو درآمدی کنٹینرز کی ہینڈلنگ معطل ہونے سے سیکڑوں کنٹینرز بندرگاہوں اور ٹرمینلز پر رک گئے ہیں، اگر ہڑتال آئندہ ایک ہفتے تک جاری رہی تو دونوں بندرگاہیں اور کنٹینر ٹرمینلز چوک ہوجائیں گے، بحران شدت اختیار کرجائے گا۔

ٹیپ کے چیئرمین ندیم شریف نے کہا کہ 8 فیصد ٹرن اوور ٹیکس ظالمانہ اقدام ہے، حکومت ریونیو بڑھانے کے لیے ان شعبوں کو ہی ہدف بنارہی ہے جو پہلے سے ہی دستاویزی اورٹیکس نیٹ میں شامل ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور ایف بی آر ریونیو بڑھانے کے لیے سہل وآسان راستوں پر چل پڑے ہیں، اس سے پاکستان کی سروسز انڈسٹری کی بقا کو سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ خدمات سے25 تا30 لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں