Ads (728x90)

لاہور: معروف کامیڈین ماجد جہانگیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں فنکارکی’’ قدر‘‘ اس کے مرنے کے بعد کی جاتی ہے۔

تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے اور پھر میڈیا کی زینت بننے کے خواہشمند حکومتی شخصیات اور ’’فنکار‘‘ اس کی صلاحیتوں کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں۔ جیتے جاگتے فنکاراپنی تمام عمرلوگوںکوانٹرٹین کرتے ہیں لیکن ان کوانٹرٹین کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ میرے مرنے کے بعد میری صلاحیتوں اورشخصیت پرقصیدے سنانے والے اگرمیری زندگی میں ہی کچھ کردیں تومیرے لیے فائدہ مند ہوگا۔ مجھے آج لوگوں کی دعا اورسپورٹ کی اشد ضرورت ہے۔

پچاس برس سے فنون لطیفہ سے وابستہ ہوں لیکن اب مشکل وقت میں حکومت اورآرٹس کونسل نے کسی طرح کی مدد نہیں کی۔ ان خیالات کااظہارماجد جہانگیر نے ’’ایکسپریس‘‘سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ کراچی آرٹس کونسل ملک کے معروف فنکاروں کو پرفارمنس کے لیے جب بلاتی ہے تو30 ,30لاکھ روپے تک ادا کردیتی ہے ،مگر میری مالی مدد کرنا تودور کی بات کسی نے مجھے فون کرکے خیریت تک دریافت نہیں کی۔

جس شعبے کواپنی تمام عمر دی آج اس شعبے سے وابستگی پرشرمندگی ہورہی ہے۔ میں نے صرف 13 برس کی عمر میں شوبز میں کام شروع کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی اورایم اے کیا۔ اس موقع پرمیں کوئی سرکاری یا نجی کمپنی کی ملازمت بھی اختیارکر سکتا تھا لیکن یہ میرے فن سے لگاؤ ہی تھا کہ ایسا کچھ نہیں کیا۔

آج میں اپنی بیماری کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچارہوں۔ جو جمع پونجی تھی وہ اپنے علاج ومعالجے پرخرچ کرچکا ہوں لیکن حکومت کی طرف سے میری مدد کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ جس پربے حدافسوس ہے۔ میں وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے علاج کے لیے اقدامات کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں