Ads (728x90)

نیویارک: مریخ پر ایلین کے وجود کے بارے میں سائنس دانوں کو یقین ہوچلا ہے جس سے وہاں زندگی کے آثار کے بھی شواہد سامنے آئے ہیں جس کے بعد خلا بازوں کی ایک ٹیم تیارکر لی گئی ہے اور اب اس ٹیم کو مریخ کے ماحول کے مطابق تیار کرنے کے لیے دنیا سے الگ تھلک تیاری کرائی جارہی ہے جو سال بھر جاری رہے گی۔

ناسا کے مطابق ان خلا بازوں کی تیاری کے لیے ہوائی میں ایک مردہ آتش فشاں کے قریب مقبرہ انداز کا ہال بنایا گیا جسے اس اندز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ اس کا ماحول اور آب و ہوا مریخ کی طرز کے مطابق رہے ، اس تیاری کے دوران مریخ پر جانے والی ٹیم کے خلا باز ایک سال تک دنیا سے الگ تھلگ رہیں گے جب کہ اس مشن پر سفر ایک سے 3 سال کے درمیان متوقع ہے۔

خلا بازوں کی یہ ٹیم 6 افراد پر مشتمل ہے جس میں 3 خواتین بھی موجود ہیں جو اس مقبرے نما ہال میں بغیر تازہ ہوا اور تازہ کھانے کے رہیں گے اور اس دوران وہ تنہائی میں زندگی گزاریں گے جب کہ اس سے باہر جانے کے لیے انہیں خلائی لباس زیب تن کرنا ہوگا۔

اس ٹیم میں ایک فرانسیسی خلائی سائنس دان، جرمن ماہرطبیعات اور 4 امریکی افراد شامل ہیں جنہیں سونے کے لیے چھوٹی سی چارپائی اور ایک میز دیا گیا ہے جب کہ کھانے کے لیے چیز کا پاؤْدر اور کینڈ ٹونا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ناسا اس طرح کے 4 ماہ اور 8 ماہ کے تجربات کرچکی ہے جب کہ اس تیاری کے دوران یہ خلاباز 6 ماہ انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن پر گزاریں گے۔ سائسن دان اس طرح دنیا سے الگ تھلگ تنگ جگہ پر رہنے سے انسان کی صحت پر ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں