Ads (728x90)

ایک امریکی جج نے ایک پاکستانی ڈاکٹر کو کم عمر لڑکی کو غلط نیت سے چھونے کے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

ان پر امریکن ایئر لائنز کی نیویارک سے شکاگو جانے والی پرواز کے دوران تنہا سفر کرنے والی ایک لڑکی کو غلط نیت سے چھونے کا الزام تھا۔

شکاگو میں ہونے والی دو روزہ عدالتی کارروائی کے دوران 57 سالہ محمد آصف چودھری اور سکول جانے والی عمر کی بچی نے عدالت میں اپنے بیانات قلم بند کروائے۔

آصف چودھری نے گواہی دی کہ اگر ان کا کسی قسم کا جسمانی رابطہ ہوا بھی تو نادانستگی میں ہوا تھا۔

استغاثہ نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ جولائی میں دوران سفر وہ اپنے لیے مختص نشست تبدیل کر کے آئیووا سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے نزدیک جا کے بیٹھ گئے تھے۔ وہ ہوائی کمپنی کے ’کم عمر تنہا سفر کرنے والے بچوں‘ کے پروگرام کے تحت سفر کر رہی تھیں۔

مبینہ طور پر لڑکی نے جہاز سے اپنی والدہ کو خوف کے عالم میں ان کے موبائل فون پر ایک میسج بھیجا تھا۔ اس میسج میں انھوں نے لکھا تھا کہ انھیں ایک آدمی نے چھوا ہے اور کیونکہ سیٹ بیلٹ باندھے رکھنے کی ہدایت والی بتی جلی ہوئی ہے جس کے باعث وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھ سکتیں۔

تاہم پیر کے روز امریکہ کی ڈسٹرکٹ جج شیرن جانسن کولمین نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

آصف چودھری اپنے اوپر لگائے گئے 12 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے دونوں الزامات سے بری ہو گئے تھے۔ دونوں الزامات کی زیادہ سے زیادہ سزا دو دو سال جیل تھی۔

آصف چودھری اوکلاہاما میں رہائش پذیر اپنے جاننے والوں سے ملنے امریکہ آئے تھے۔ کیس کی سماعت کے دوران انھیں جیل میں نہیں رکھا گیا تھا تاہم رواں سال کے اوائل میں الزامات باقاعدہ عائد ہونے کے بعد حکام نےان کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

منگل کے روز شکاگو میں ان کی وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل اپنے ملک واپس لوٹنے اور اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے منتظر ہیں۔

اینڈریا گیمبینو کہتی ہیں کہ فیصلے کے بعد ’اب وہ انتہائی پُرسکون ہیں۔‘

دوسری جانب منگل کے روز استغاثہ کے ترجمان جوزف فٹزپیٹرک نے اس کیس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں