Ads (728x90)

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے جمعرات کو روسی صدر ولادی میر پوتن کو رسمی طور پر دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان آ کر شمال جنوب گیس پائپ لائن کی تعمیر کا افتتاح کریں۔

وزیر اعظم موصوف نے جمعرات کو وزیر اعظم ہاؤس میں ایک روسی وفد کے ساتھ ہوئی ملاقات میں ایسا کہا۔ اس وفد کی سربراہی معیشت، سائنس اور سائنسی و تکنیکی تعاون کے پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن کے شریک چیئرمین وکتور ایوانوو کر رہے تھے۔ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے ایسے حل کی حمایت کرتا ہے جس کے مالک افغان ہوں اور رہنما بھی افغان کیونکہ یہ پورے خطے اور دنیا کے لیے اچھا ہوگا، انہوں نے کہا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مضبوط رشتے کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس سے ایک نئے عہد میں داخل ہوا جائے گا جو دونوں ملکوں کے لیے باثمر مفادات کا حامل ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر ایک مضبوط روش اپنا لی ہے تاکہ پرامن، مستحکم اور سرمایہ کار دوست فضا یقینی بنائی جا سکے۔

مؤثر حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کی کچھاریں اور انفراسٹرکچر منہدم کیا جا چکا ہے، وزیر اعظم نے کہا۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی قوم، موجودہ حکومت کی قیادت میں، دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی اشاریے تیزی سے بلند ہو رہے ہیں اور پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے، خاص طور پر توانائی کے میدان میں ایک پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے۔

روسی وفد کے سربراہ وکتور ایوانوو نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے جس کی بھرپور تاریخ ہے اور پاکستان و روس کے درمیان تجارت کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان براہ راست پروازوں کا اہتمام کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو خاص طور پر فائدہ پہنچ سکے۔

پاکستان کے وزیر برائے مالیات و معاشی معاملات اسحٰق ڈار، بیورو برائے سرمایہ کاری کے چئیرمیں مفتاح اسمٰعیل اور حکومت کے سینیر افسر اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ روس کے وفد کے اراکین میں کرنل جنرل وائی کوئیکو، وفاقی منشیات مخالف ادارے کے نائب وزیر میجر جنرل ولادیمیر وسوتسکی، پاکستان میں روس کے سفیر الیکسی دیدوو اور پاکستان میں روس کے منشیات مخالف وفاقی ادارے کے نمائندے ماکسم مارچینکو شامل تھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں