Ads (728x90)


ممبئی: انسان کی کچھ عادات ایسی ہیں جو اس کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں تاہم وہ اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اسے تبدیل نہیں کر پاتے اسی لیے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان عادات کو تبدیل کر کے انسان بیماری سے بچ کر اچھی صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
ٹوتھ برش کو تبدیل کرنا:
عام طور پر لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور کافی عرصے تک ایک ہی ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں جب کہ ایک خاص وقت کے بعد نہ صرف اسے تبدیل کردیا جائے بلکہ اس کا رنگ بھی بدل دینا چاہیے۔ ڈاکٹر سیمرا علی کا کہنا ہے کہ ٹوتھ برش جب اپنی مدت پوری کر لیتا ہے تو مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتا اور دانتوں میں بیکٹریا اور ٹارٹر باقی رہ جاتا ہے جو دانت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ کچھ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ برش پرانا یا نیا ہو جیسے ہی وائرل انفیکشن ہو فوری طور اسے تبدیل کردیں۔
تولیے کو تبدیل کریں:
گھروں میں عام طورکئی افراد ایک ہی تولیہ کافی عرصے تک استعمال کرتے ہیں جس سے جسم پر الرجی اور خارش پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر روئے کا کہنا ہے کہ تولیے کو ایک دن چھوڑ کر دھونا چاہیے اور اسے مکمل خشک بالخصوص سورج کی روشنی میں خشک کریں جب کہ گیلا تولیہ جسم پر الرجی کا باعث بن سکتا ہے۔ تولیے سے جب ناگوار بو آنے لگے تو اسے فوری تبدیل کردینا چاہیے۔
تکیے کا کور تبدیل کریں:
تکیہ ایک ایسی چیز ہے جس پر انسان رات بھر گزارتا ہے اور اس کے کور پر وقت مٹی اور بیکٹریا موجود ہوتے ہی جو بالوں کے ساتھ ہمارے جسم پر الرجی، ریشز اور خارش جیسی بیماریاں پیدا کرسکتے ہیں اس لیے تکیے کے کور کو ہر متبادل دن میں دھو لینا چاہیے جب کہ ایک سال بعد کور کو تبدیل کردینا چاہیے۔
آنکھوں پر لگایا جانے والا مسکارا:
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آنکھوں پر لگایا گیا مسکارا ایک خاص وقت کے بعد بھوؤوں کے اوپر حصے میں سوجن پیدا کردیتا ہے جب کہ یہ مزید پھیل کر آنکھ کے نچلے حصے پر سوجن، فنگل انفیکشن او کالے رنگ کے سرکل بنا دیتا ہے  جو مزید خطرناک بیماری کی شکل اختیار کر کے آپ کو پلکوں سے محروم کرسکتا ہے۔
لپ اسٹک کو تبدیل کریں:
ایک ہی قسم کی لپ اسٹک ہونٹوں پر ریشز اور خشکی پیدا کردیتی ہے جس سے ہونٹ پھٹنے لگتے ہیں اور خاص طور پر زیادہ گہرے رنگ کی لپ اسٹک زیادہ نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایک سال کے اندر لپ اسٹک کو تبدیل کرلیں اور گہرے رنگ کی لپ اسٹک سے پرہیز کریں۔
کنگھی کی صفائی کریں:
گندا کنگھا استعمال کرنا بیکٹریا اور انفکیشن کا باعث بنتا ہے اور سر میں پس بھرے زخم پیدا کردیتا ہے۔ جراثیم سے پاک کنگھی کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک ہفتے میں ایک بار ضرور گرم پانی سے دھویں اور اسے ہر سال بعد تبدیل کردیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں