Ads (728x90)

لندن: انسان کے جسم پر لوگ ہاتھوں کے مقابلے میں پیروں پر زیادہ نظرنہیں ڈالتے لیکن ماہرین صحت ہمارے پیروں کو جسم کی کھڑکی قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے اور ناخنوں کے ذریعے بیماریوں کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔
برطانیہ میں پیروں میں پوشیدہ مختلف امراض کے ماہرڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پیروں کی کیفیات کئی طرح کے امراض سے آگاہ کرتی ہیں اور ان پر غور کرکے ہم بہت سے بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
غیرمعمولی بڑا انگوٹھا:
غیرمعمولی طور پر بڑا ہوا انگوٹھا گٹھیا کے مرض کو ظاہر کرتا ہے جس میں یورک ایسڈ جمع ہوکر سوجن اور شدید تکلیف پیدا کرتا ہے۔ ایسے مرض میں انگوٹھا اوپر کی بجائے بیرونی اطراف سے سوجھ جاتا ہے اور اس کے جوڑ میں یورک ایسڈ کے نوکیلے ذرات جمع ہوکر بہت تکلیف پہنچاتے ہیں اگرچہ اس کی وجہ موٹاپا ہے لیکن جینیاتی طور پر یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔
علاج اور احتیاط:
اگر انگوٹھا سرخ ہوکر سوجھ رہا ہو اور درد بڑھے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ایسے میں پانی کا استعمال بڑھائیں جب کہ یورک ایسیڈ بھی ٹیسٹ کرائیں۔
 سرد پاؤں:
اگر بستر میں جانے کے باوجود بھی کچھ دیر تک آپ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور سن رہتے ہیں تو شاید آپ ہائپوتھائروڈزم کے شکار ہیں اس مرض میں تھائیرائیڈ غدود کی سرگرمی متاثر ہوتی ہے اور ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں بہت حساس ہوجاتی ہیں کیونکہ ان میں خون کی گردش سست پڑجاتی ہے اس لیے یہ سفید ہوجاتے ہیں اور خون واپس آنے پران میں سوجن اور سرخی نمایاں ہوجاتی ہے۔
علاج:
تھکاوٹ، وزن بڑھنا، پٹھوں میں اینٹھن اور اداسی ہائپوتھائروڈزم کی عام علامات ہیں ایسی صورت میں فوری اپنے معالج سے رجوع کریں اور تھائیرائیڈ غدود کا ٹیسٹ کرائیں جب کہ ساتھ ہی بہت سرد اور بہت گرم ماحول میں جانے سے بھی گریز کریں۔
سرخ زخم اور پیروں کا سن ہونا:
پیر سن ہورہے ہوں اور ان کی حس ختم ہورہی ہو اور اس کے ساتھ چھوٹے بڑے سرخ زخم بن رہے ہوں تو یہ ذیابیطس کی علامات بھی ہوسکتی ہیں۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں پیروں اور انگوٹھوں کے اعصاب متاثر ہوتے ہیں اس کی شدیت کیفیات میں زخم گہرے اور ناقابلِ علاج ہوجاتے ہیں اور پیروں کو کاٹنے تک کی نوبت بھی آجاتی ہے۔
پھولے ہوئے ناخن:
اس میں انگلیوں کے سرے موٹے دکھائی دیتے ہیں اور ناخن اوپر سے گول اور پھیلے ہوئے لگتے ہیں جسے کلب نیل کہتے ہیں۔ خون میں آکسیجن کی کمی سے یہ علامات نمایاں ہوتی ہیں اور دل، پھیپھڑوں اور آنتوں کے امراض کو ثابت کرتے ہیں۔
بغیر بال کی انگلیاں اور انگوٹھے:
ہم سے کچھ لوگ ہی پاؤں پر بال دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر پیروں کی انگلی پر بال نہ ہوں تو یہ امراضِ قلب کی وجہ بھی ہوسکتی ہے اگر دل خون کو درست انداز میں پمپ نہیں کررہا تو اس سے جلد پتلی ہوجاتی ہے اور انگلیوں پر بال نہیں اگتے ۔ پیر کی انگلیوں کا رنگ، سفید، سرخ اور جامنی ہوسکتا ہے اور ناخن قدرے موٹے ہوجاتے ہیں۔
موٹے، شکستہ اور بے رنگ کے ناخن:
ناخن کی ٹوٹ پھوٹ ان کی غیریکساں رنگت اور موٹے ناخن جسم کے غیر معمولی طور پر سرگرم امنیاتی (دفاعی) نظام کو ظاہر کرتےہیں اس مرض کو سوریسسز کہتے ہیں اور اس کی وجہ موروثی، ذہنی تناؤ اور ادویہ کا غلط استعمال ہوسکتا ہے اس سے ناخن موٹے اور سفید ہوجاتے ہیں اور جلد پر سرخ دھبے پڑجاتے ہیں۔
پاؤں پرمستقل سوجن:
عموماً بہت دیر کھڑے رہنے ، طویل ہوائی سفر اورحاملہ ہونے کی صورت میں پیروں پر سوجن آجاتی ہے لیکن اگر ایسی صورتحال نہ ہواور آپ کے پیروں پر مسلسل سوجن رہتی ہو تو یہ گردے کے امراض اور امراضِ قلب کی علامات ہوسکتی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں