Ads (728x90)

لندن: طبی ماہرین کی جانب سے تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جب کہ اس سے ایسے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جو قدرے صاف اور محفوط ماحول میں رہائش پذیر ہوں۔

لندن میں ہونے والی یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کانفرنس میں ماہرین کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی سے دل کے دورے کاخطرہ 5 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور اس کےآثار صرف ایک روز میں بھی ہی ظاہر ہوجاتے ہیں، فضا میں بغیر جلے ہوئے ایندھن کے خردبینی ذرات، مضر صحت دھویں میں موجود گیسیں پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں اور خون کی شریانوں میں مضر تبدیلیاں کرنے کے ساتھ ساتھ خون کے لوتھڑے بھی بناتے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن جلنے سے نائٹرک آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے جو دل کے لیے سب سے مضر ہے جب کہ یہ مسائل یورپ کے ان ممالک میں بھی ہوسکتے ہیں جہاں ہوا کا معیار قدرے بہتر ہے۔

کانفرنس میں موجود بیلجیئم کے ماہرین نے اپنے ملک میں فضائی آلودگی اور دل کےدورے کے درمیان تعلق معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ فضائی آلودگی میں کاربن کے ذرات کے علاوہ پی ایم 2.5 نامی ذرات بھی پائے جاتے ہیں اور جن مقامات پر پی ایم 2.5 کی مقدار فی مربع میٹر 10 مائیکرو گرام سے زیادہ پائی گئی وہاں دل کے دورے میں قریباً تین فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا اور فضا میں نائٹرک آکسائیڈ کی اتنی ہی مقدار بڑھنے سے دل کےدورے کی شرح 5 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آلودہ ہوا اور ہارٹ اٹیک میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور صرف ایک دن تک آلودہ فضا میں رہنے سے بھی یہ عارضہ ہوسکتا ہے اسی لیے کسی شہر میں فضائی آلودگی پرقابو پاکر لوگوں کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں


ایک تبصرہ شائع کریں