Ads (728x90)

برسلز: سائنس دانوں نے مجرموں کو پکڑنے اور ان کی عمر کا درست اندازہ لگانے کے لیے خون کے نمونوں سے ایسا ٹیسٹ تیار کرلیا ہے جس سے قاتل کو پکڑنے میں مدد مل سکے گی۔

بیلجیئم کے سائنس دانوں کے ایجاد کردہ اس نئے ٹیسٹ میں جرم کی جگہ پر موجود خون یا دانتوں کی مدد سے مجرم کی عمر کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، موجودہ طریقہ کار میں عام طور پر خون کے فرانزک ٹیسٹ سے نکلنے والے نتیجے کو ڈی این اے سے ملایا کر مجرم کے بارے جانا جاتا ہے لیکن اب اس نئے ٹیست کسی بھی شخص کی شناخت پہلے سے موجود ریکارڈ کے بغیر بھی ممکن ہوگی۔

کے یو لیون ریسرچرز نے انسانی جسم میں موجود ٹشوز اور آرگنز کے مختلف تبدیلیوں سے اس ٹیسٹ کو تیار کیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار میں جین یا ایپی جینوم کی ریگولیشن کی مدد سے عمر سے تعلق اور ڈی این اے کا استمعال کیا گیا ہے جس سے مجرم کی عمر بآسانی پتا لگایا جا سکتا ہے۔

پروفیسر برام بیکائرت نے اس ٹیسٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے انسانی جسم کے کچھ جینز کام کرنے لگتے ہیں اوردوسرے جینز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جب کہ اس طریقہ کار عارضی طور پر میتھالیشن سے ریگولیٹ ہوتا ہے جہان میتھائل گروپ کو ڈی این اے میں شامل کردیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خون کے نمونے کے ٹیسٹ سے اصل عمر میں 3.75 سال کی غلطی کا امکان جبکہ دانتوں کے نمونے کے ٹیسٹ سے 4.86 سال کا فرق ہو سکتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں