Ads (728x90)


کولمبو ۔لبنانی نژاد برطانوی انسان حقوق کارکن اور قانون دان امل کلونی نے مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید کا مقدمہ لڑنے والے وکلاء کے پینل میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے جزیرہ مالدیپ کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیر حراست سابق صدر نشید کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امل کلونی [امل علم الدین سابقہ نام] گذشتہ روز کولمبو پہنچیں جہاں انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جزیرہ مالدیپ میں انسانی حقوق کی صورت حال دن بہ دن دگر گوں ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے سابق صدر کے ایک دوسرے وکیل محفوظ سعید پر نامعلوم افراد کے ہاتھوں چاقو سے حملے کی شدید مذمت کی۔

خیال رہے کہ سابق صدر محمد نشید کے ایک مقامی وکیل محمد محفوظ سعید کو چند روز قبل نامعلوم افراد نے چاقو سے حملہ کر کے زخمی کردیا تھا۔ اس واقعے کے چند دن بعد امل کلونی نے سابق صدر کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا۔

نیوز ویب پورٹل "مالدپ انڈیپنڈنٹ" نے امل کلونی کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ کولمبو ہوائی اڈے پر ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان خاتون قانون دان کا کہنا تھا کہ "مجھے مالدیپ کی موجودہ ابتر امن وامان کی صورت حال اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر گہرا افسوس ہے."

یاد رہے کہ سابق صدر 47 سالہ محمد نشید سنہ 2008ء میں ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ رواں سال مارچ میں ان پر انسداد دہشت گردی کے ایک قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ اور امریکا سمیت عالمی برادری کی جانب سے سابق مالدیپی صدر کے ٹرائل کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر شفاف اور متنازع قرار دیا تھا۔

مالدیپ کی ایک عدالت نے سابق صدر کو ابتداء میں 13 سال کی جبری نظربندی کی سزا کا حکم دیا تھا تاہم بعد ازاں پولیس نے انہیں گھر سے حراست میں لے کر جیل میں ڈال دیا تھا۔ مالدیپ کی موجودہ حکومت کے اس اقدام پر عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

امکان ہے کہ محمد نشید کی نئی وکیل امل کالونی اور دوسرے ساتھی وکیل جارید جنسر کے ہمراہ رواں ہفتے جیل میں اپنے موکل سے ملاقات کریں گی، تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے سابق صدر کے وکلاء کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے یا نہیں۔

مارچ میں سابق صدر محمد نشید پر دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمہ چلانے کے بعد تیرہ سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا تو انہوں نے سزا مسترد کردی تھی۔ سابق صدر محمد نشید ملک میں پہلے کثیر جماعتی انتخابات کے محض سات سال بعد فوج اورپولیس کی بغاوت کے نتیجے میں برطرف کردیے گئے تھے۔ انہیں ملک کا صدر منتخب ہوئے صرف چار سال گذرے تھے کہ فوج نے ان کے خلاف بغاوت کردی اور ان سے جبرا استعفیٰ لے لیا تھا۔ بعد ازاں ان پر دہشت گردی کے ایک متنازع قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

صدر نشید کی برطرفی کے بعد ملک گیر مظاہرے بھی ہوئے جن میں عوام کی بھاری تعداد نے صدر نشید کے خلاف بغاوت کی شدید مذمت کی۔

ایک تبصرہ شائع کریں