Ads (728x90)


بی بی سی نے اپنے سنہ 2015 کے ’100 خواتین‘ سیزن کے لیے دنیا بھر سے، زندگی کے تمام شعبوں اور عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کا انتخاب کیا ہے جو دیگر خواتین کے لیے زندگی میں باعثِ تحریک ہیں۔

اس سال اس سیزن میں خصوصی توجہ دنیا بھر میں نرسنگ کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے علاوہ ایسی بزرگ خواتین پر رہے گی جن کے پاس اپنی زندگی کے تجربات سے بتانے کو بہت کچھ ہے۔

اس کے علاوہ ان سو منتخب شدہ خواتین میں 30 سال سے کم عمر کی 30 ایسی خواتین بھی ہیں جنھوں نے کاروبار کی دنیا میں نام بنایا ہے۔

18 نومبر سے شروع ہو کر دو ہفتوں تک جاری رہنے رواں برس کے’100 خواتین‘ سیزن میں فکر انگیز نشریات اور آن لائن کہانیاں پیش کی جائیں گی۔

اس میں ایسی نوجوان خواتین فلم سازوں کا ذکر بھی ہوگا جو اپنی برادری میں دباؤ اور توقعات کو دستاویزی شکل دینے میں منہمک ہیں۔

اس کے علاوہ ان 100 خواتین میں سائنس، سیاست، کھیل، تعلیم اور فن کے شعبے میں دیگر خواتین کے لیے مثال بننے والی خواتین بھی شامل ہیں۔

بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا، آسکر انعام یافتہ اداکارہ ہلیری سوانک اور سوڈان کی سپر ماڈل ایلک ویک بھی رواں سال کی فہرست کی زینت ہیں۔

2015 کے سیزن میں پاکستان سے بھی دو خواتین 28 سالہ فنکار اور ٹی وی پر میزبانی کرنے والی منیبہ مزاری اور 17 سالہ طالبہ عائشہ اشتیاق کا انتخاب کیا گیا ہے۔

منیبہ مزاری ساڑھے سات برس قبل ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں کے استعمال کی صلاحیت سے محروم ہوگئی تھیں تاہم وہیل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود وہ ماڈلنگ کرتی ہیں اور ملک کے سرکاری ٹی وی سے بطور میزبان منسلک ہیں۔

حادثے کے بعد جب منیبہ زیرِ علاج تھیں تو انھوں نے مصوری شروع کی اور وہ پرامید ہیں کہ وہ اپنے کام کے ذریعے لوگوں میں امید جگا سکتی ہیں۔

عائشہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور وہ 12ویں جماعت کی ایک ایسی طالبہ ہیں جو معاشرے میں موجود صنفی امتیاز کے خاتمے کا عزم رکھتی ہیں۔

امریکہ میں خواتین کے امور یا صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کی متمنی عائشہ حقوقِ انسانی اور خواتین کے حقوق پر مذاکروں کا اہتمام کرتی ہیں۔

اس سیزن کے دوران بی بی سی اردو کے پروگراموں میں پاکستان میں ہونے والے خواتین کے واحد اور اولین جرگے کا بھی ذکر کیا جائے گا، اور اس کے علاوہ ’گرلز ایٹ ڈھاباز‘ تحریک کی بات بھی ہو گی جس کے ذریعے خواتین کے عوامی مقامات پر موجودگی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

بھارت سے ہماری کوریج میں مغربی ریاست مہاراشٹر میں پیدا ہونے والی ان بچیوں کا ذکر شامل ہوں گا جنھیں ’نکوشا‘ یعنی غیر مطلوب یا بے ضرورت کا نام دیا گیا تھا۔ ہم ان میں اسے ایسی کچھ لڑکیوں سے بات کریں گے جنھیں چار سال قبل ہی اپنا نام ملا ہے۔

مشرق وسطی میں ہم اردن میں رہنے والی 16 سالہ پناہ گزین اور ’شام کی ملالہ‘ کہلائی جانے والی معیصون الملحان سے ملیں گے جو کہ پناہ گزین لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے اور سکول جانے کی تحریک دیتی ہیں۔

بی بی سی کا ’100 خواتین‘ سیزن 2013 میں شروع کیا گیا تھا اور اس سے بی بی سی کے اس عہد کا بھی آغاز ہوا تھا کہ بین الاقوامی خبروں کے پروگراموں میں خواتین کی نمائندگی میں بہتری لائی جائے گی۔

رواں برس کے سیزن کا اختتام لندن میں بی بی سی کے ہیڈکوارٹر سے لے کر البانیہ، کوسوو، سماؤ، فیجی، اسرائیل اور جمیکا سمیت دنیا کے 100 مختلف مقامات پر ’شبیہ، سربراہی اور رشتے‘ کے موضوع پر ایک روزہ بحث و مباحثے پر ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں